ٹھنڈا پانی پینے والو یہ دیکھ لو رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے

جیسے ہی ہر انسان کے پاس جتنا زیادہ پیسہ ہوتا ہے وہ اتنی ہی زیادہ بیماریوں میں مبتلا ہو تا ہےاب ایسا کیوں ہے دراصل  ہم پیسے کے دم پر گھر میں ایسی چیزیں لے کر آتے ہیں کہ جن کے استعمال سے ہم بیمار پڑ جاتے ہیں اب  میں ایسی مثالیں دینے لگا ہوں کہ جن کو سننے کے بعد آپ چونک جائیں گے کہ ایسا کیوں ہوتا آیا ہے اور ہم ہی اپنے ساتھ ایسا ظلم کیوں کرتے رہے۔ اب سنیے گا ذرا غور سے۔ دیکھئے جب ہمارے پاس پیسہ ہوتا ہے تو ہم بنا یہ سوچے سمجھے  اس بات کو یقینی بنا لیتے ہیں کہ ہم ہو ٹلنگ کر یں گے ہم باہر کے کھانے کھائیں گے اور حقیقت بھی کچھ اسی طرح ہی ہے جیسے ہی انسان کے پاس پیسہ آتا ہے۔

تو  وہ سادا خوراک کھانے کی بجائے ایسی ایسی چیزیں کھا تا ہے کہ جن چیزوں کے کھانے سے بہت ہی زیادہ اس کی صحت کو نقصان پہنچتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس کی صحت کو تو نقصان پہنچتا ہی ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ اس کے ساتھ جو جوڑے لوگ ہوتے ہیں وہ بھی اس کی وجہ سے بہت ہی زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ اب جیسا   کہ ہم باہر کے کھانے زیادہ کھاتے ہیں ہوٹلنگ زیادہ کرتے ہیں فاسٹ فورڈ زیادہ کھاتے ہیں جیسا کہ پیزا برگر شوراما وغیرہ اور اس کے بعد چٹ پٹی چیزیں بھی کچھ چند۔ تو ایسا ہی کیوں ہوتا ہے ہم پیسہ ا چھی صحت پر بھی تو خرچ کر سکتے ہیں اچھی صحت پرخرچ کرنے سے مراد یہ ہے کہ ہم اچھی چیزوں پر بھی تو خرچ کر سکتے ہیں۔

اچھی صحت پر خرچ کرنے سے یہ ہوگا کہ ہماری صحت اچھی بنے گی اور ہم طرح طرح کی بیماریوں سے بچے رہیں گے جب کہ اگر ہم پیسہ کسی ایسی چیز پر لگا ئیں گے یا ایسی چیزوں پر لگا ئیں گے کہ جن کے استعمال سے بہت ہی زیادہ نقصان ہو گا ہمیں۔  تو ان چیزوں کا ہر گز ہی استعمال نہ کریں اور ان چیزوں سے پر ہیز کر یں کیو نکہ ان چیزوں سے ہماری صحت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ یہاں ایک بات کر نا لازمی سمجھو ں گا کہ جس طرح سے ہم پیسہ  ان زہریلے کھانوں پر خرچ کر تے ہیں بلکہ ضائع کر تے ہیں ۔

کیونکہ پیسہ ہمیشہ اچھی صحت پر ہی خرچ کیا جاتا ہے بری صحت پر ہمیشہ ضائع ہی ہو تا ہے پیسہ اگر ہم اچھی صحت پر پیسہ لگا ئیں گے تو ہماری صحت بھی اچھی بنے گی اور اس کے ساتھ ساتھ ہم طرح طرح کی بیماریوں سے بھی بچے رہیں گے۔  اب پانی کی ہی مثال لے لیتے ہیں کہ  پانی ہماری صحت کو بہت ہی زیادہ اچھا رکھتا ہے ۔ اگر ہم معیار سے نیچے پانی پیتے ہیں تو یہ ہماری صحت کو ہی خراب کرے گا۔ نا کہ اچھا کر  ے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *