یہ 5 چیزیں گوگل پر کبھی سرچ مت کریں

آج کل انٹر نیٹ ہماری زندگیوں کا بہت ہی اہم حصہ بن چکا ہے اور انٹر نیٹ کی دنیا گوگل سرچ انجن کے بغیر ویران ہے ہم اپنی روز مرہ زندگی میں کچھ نہ کچھ اس پر ضرور سرچ کرتے ہیں سرچ انجن ایسی ویب سائیٹ کو کہاجاتا ہے جو آپ کے لکھے گئے مخصوص الفاظ سے متعلقہ ویب سائٹ ڈھونڈ کر آپ کے سامنے لے آتا ہے مثلا یاہو بنگ گوگل وغیرہ جو دنیا بھر میں سب سے زیادہ استعمال ہوتا ہے یہ سچ ہے کہ گوگل کی اس سہولت نے کافی حد تک لوگوں کی زندگیوں کو آسان اور سمارٹ بنا دیا ہے۔مگر اس کے ساتھ ساتھ جہاں ہر چیز کے کچھ فائدے ہوتے ہیں وہیں دوسری طرف اس کےچھپے ہوئے نقصانات بھی ضرور ہوا کرتے ہیں لہٰذا گوگل سرچ انجن پر بھی کچھ چیزیں ایسی ہیں

جو آپ کو بالکل بھی سرچ نہیں کرنی چاہئیں ۔1۔اگر آپ اسلحہ یا مختلف ہتھیاروں کے متعلق شوق رکھتے ہیں اور یہ جاننے کے لئے کہ کوئی ہتھیار کیسے بنایاجاتا ہے یا وہ کیسے کام کرتا ہے یا ان کے متعلق کچھ بھی گوگل پر سرچ کرتے ہیں چاہے وہ صرف معلومات کی حد تک ہی کیوں نہ ہو تو آپ کو یہ جان لینا چاہئے کہ دنیا بھر میں موجود سیکیورٹی ادارے ہمیشہ ایسی سرچز کو ٹریس کرتے رہتے ہیں۔اور آپ کا آئی پی ایڈریس مشکوک ہونے کی بنا پر ان کے ڈیٹا بیس میں جاسکتا ہے مطلب یہ کہ اب وہ آپ کے انٹر نیٹ پر ہونے والی تمام حرکتوں پر نظر رکھیں گے۔کہ یہ کوئی مشکوک فرد یا دہشت گرد تو نہیں لہذا انٹر نیٹ پر ایسی چیزوں کو سرچ کرنے سے گریز کرنا چاہئے

لہٰذا شک ہونے پر آپ کو گرفتار بھی کیاجاسکتا ہے ۔2۔ہم میں سے بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اپنی بیماری سے متعلق گوگل پر سرچ کرتے رہتے ہیں اور انٹر نیٹ پر واقعی ایسی بے تحاشا ویب سائٹس موجود ہے جو اس سے متعلق بہترین علم اور مدد فراہم کرتی ہی۔مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ آپ کو ذہنی ڈپریشن اور مزید بیماریوں میں بھی مبتلا کرسکتی ہے مگر کیسے؟فرض کیجئے کہ آپ کو کوئی عام سی الرجی یا معمولی علامت والی کو ئی بیماری لاحق ہو جاتی ہے اور آپ اس کی علامات گوگل پر سرچ کرتے ہیں ویب سائٹس پر ان علامات کی وجہ کینسر بتایاجاتا ہے کیونکہ بہت سی بیماریوں کی اکثر علامات ایک جیسی بھی ہوا کرتی ہیں۔یہ چیز جان کر آپ مزید ڈپریشن میں مبتلا ہوکر خود کو مزید بیمار کر لیں گے لہذا بہترہے کہ ایسی علامات کو گوگل پر سرچ کرنے کی بجائے مستند ڈاکٹر سے رابطہ کیجئے۔

ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ یہ ٹیکنالوجی صرف ایک مصنوعی مشینی دماغ ہے جو انسانوں کی طرح نہ تو سمارٹ ہے اور نہ ہی خود سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔3۔کئی بار بہت سے لوگ گوگل کو ایک زبان کی ٹرانسلیشن یعنی ترجمہ کرنے کے لئے بھی استعمالک رتے ہیں جو آپ کے لئے نقصان دہ بھی ہوسکتا ہے کیونکہ ممکن ہے گوگل جو ترجمہ آپ کو دکھائے وہ بالکل ویسا نہ ہو جیسا حقیقت میں ہونا چاہئے تھا یعنی کسی بھی جملے کا اصل مطلب نہ ہو مگر آپ اسی ترجمے پر یقین کر کے سامنے والے شخص کو جواب دیں لہذا یہ آپ کے لئے شرمندگی کا باعث بن سکتا ہے۔ہاں البتہ ایک یا دو الفاظ کے معنی جاننے کے لئے آپ اسے استعمال کریں تو اس میں غلطی کی چانسز بہت کم ہیں ۔4۔ انٹر نیٹ پر چونکہ ہر طرح کا مواد ہرشخص کے لئے دستیاب ہے لہذا کئی بار اسے کنٹرول کرنا۔

آپ کے بس میں نہیں ہوتا اور یہ چیزیں آپ کو ذہنی دبا یعنی ڈپریشن کا شکار بنادیتی ہیں مثلا انٹر نیٹ پر حادثات سے متعلق گرافک تصویریں وڈیوز اور زہریلے جانوروں کی تصویریں خاص طور پر اگر آپ کو ان سے خوف آتا ہو تو انسانی اعضاء کی ایسی تصویریں جو ڈاکٹر ز تجربات کے لئے استعمال کرتے ہیں یا پھر فحش مواد بھی اچانک ایڈز کی صورت میں اچانک آپ کی سکرین پر نمودار ہوسکتے ہیں لہٰذا آپ اپنے روز مرہ کے کام بھی ٹھیک سے نہیں کرپاتے ۔5۔اگر آپ گوگل پر بہت زیادہ چیزوں کو یا ان کے سولیوشن کو سرچ کرنے کے عادی ہیں تو آ پ کو بہت سارے ایڈز دیکھنے پر تیار رہنا چاہئے

کیونکہ آج کل بڑی بڑی کمپنیاں انٹرنیٹ پر ایڈورٹائزنگ کرنے کے لئے ٹارگیٹڈ آڈینس کو ڈھونڈتی ہیں یعنی ایسے کسٹمرز کو ڈھونڈنا جو ان کی پراڈکٹس میں دلچسپی رکھتے ہوں یعنی آپ نے گوگل پر سرچ کیا کہ داغ دھبوں کو چہرے سے کیسے صاف کیاجائے اور یوں کچھ ہی لمحے بعد کئی بیوٹی کریمز کے اشتہارات دکھنا شروع ہوجائیں گے ویسے آپ ان سے بچنے کے لئے ایڈ بلاکر کا بھی استعمال کرسکتے ہیں ۔شکریہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *