دوتسبیح پڑھیےاو لاد نرینہ پائیے

ہمارے ایک بزرگ تھے جن سے سنا ہے کہ 2  تسبیح  “قل ھواللہ” کی بسم اللہ کے ساتھ، درود شریف کے ساتھ صبح و شام پڑھیں۔یہ سورت اخلاص دو تسبیح پڑھ کے حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت زکریاؑ کی روح پر ہدیہ کریں۔ اور دعا بھی ہاتھ اٹھا کر فرمادی۔ ان کا ذوق علمی تھا۔ جن کی اولاد نہ ہو وہ ان کے پاس جائے اور جا کر ان سے دعا کروائیں۔دعا فرما کر میر ی دعاؤں کو فائد ہ دینا ہے۔

جو دعا قبول کروانی ہے جو عمل بتاؤں گا اس کو چھوڑنا نہیں ہے۔ اگر تم نے میری  دعاؤں کو پانی نہ دیا اور میری دعاؤں کو قبول نہ کروایا۔میں جو عمل بتا رہا ہوں اس کو چھوڑ دینا ہے۔ یعنی قبولیت کا راز چاہتے ہیں اولاد چاہتے ہیں ، نعمتیں چا ہتے ہیں تو یہ عمل کر لیں۔ ایک بار میں نے عجیب سی بات سنی ۔ جب میں چھوٹا تھا۔ میرے والد صاحب کے استاد بھی تھے بزرگ بھی تھے ۔

فرماتے ہیں دعا تو میں کرتا ہوں ان کی تسلی کےلیے۔ اصل میں دعا کہتاہوں حضرت ابراہیمؑ اور حضرت زکریاؑ کے لیے۔ میں ہاتھ اٹھا کے کہتا ہوں اور آپ کو اعمال کا یہ ہدیہ کرےگا۔اورمیں بھی آپ کے لیے ہدیہ کرتا رہتا ہوں۔تاکہ کوئی دعا و سلام ہو۔ہم سمجھتے ہیں پیر صاحب کے پاس جاؤ اور مٹھائی کا ڈبہ لے جاؤ۔ کوئی مرغی لے جاؤ یاکوئی چیز لے جاؤ۔ پیر صاحب آئیں گے اور میٹھے چاول کھائیں گے ۔

یعنی پیر کے پاس آئیں ہیں تو خالی ہاتھ نہیں آنا ہے دنیا کا رواج ہے مال کے ہدیے کا لیکن اعمال کے ہدیہ  بہت بڑی بات ہے۔ مال مٹنے والی چیز ہے لیکن اعمال کبھی مٹنے والی چیز نہیں ہے۔ فرمانے لگے دعا تو میں کرتا ہوں تسلی کرنے کے لیے۔ اوران حضرات سے کہتا ہوں جو حضرت ابراہیم ؑ اورحضرت زکریاؑ  کے لیے۔ان سے عرض  کرتا ہوں حضرت میں دعا کر رہا ہوں آپ بھی دعا فرمائیں جیسے اللہ تعالیٰ نے آپ کو بیٹوں والی نعمتوں سے نوازا ہے۔

ایسے مجھے بھی اللہ تعالیٰ بیٹوں والی نعمت ان کو بھی نواز دے۔ اور آگے فرماتے ہیں سائل آیا تھا میرے پاس لیکن میرے پاس تو کچھ نہیں ہے۔ میں نے سخیوں کے در کے حوالے کردیا ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ سے زیادہ سخی کو ن ہوسکتا ہے۔ ایسے سخی تھے جو بغیر مہمان کے کھانا نہیں کھاتے تھے۔ جس دن مہمان گھرنہیں آتا تھا اس دن گلیوں میں پھر پھر کر مہمان کو ڈھونڈتا تھا۔میرے والد کے استاد کی بات ہے میرے بھی بزرگ ہیں میں سخیوں کے حوالے کردیتاہوں۔میرا در تو خالی ہے اور سخی سخی ہے۔ شہنشاہ ہیں اور ان کے حوالے کرکے دعا کردیتا ہوں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *